کیا ہوا؟
پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بیانیہ بنیادی طور پر تبدیل ہو چکا ہے۔ جہاں AI کے ابتدائی دور میں تجرباتی استعمال اور جوش و خروش نمایاں تھا، وہیں موجودہ منظرنامہ قابلِ پیمائش کاروباری نتائج کے حصول پر مرکوز ہے۔ 2026 کے انڈسٹری بینچ مارکس کے مطابق، مقامی ادارے 'صرف جدت کے لیے جدت' کے ماڈل سے نکل کر ان آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے پر توجہ دے رہے ہیں جنہوں نے ماضی میں پیداواری صلاحیت کو متاثر کیا تھا۔
یہ کیوں اہم ہے
ایک ترقی پذیر معیشت کے لیے جو شدید معاشی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، وسائل کا موثر استعمال انتہائی اہم ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) نے اپنی حالیہ علاقائی معاشی آؤٹ لک میں نشاندہی کی ہے کہ طویل مدتی مالی استحکام کے لیے ساختی پیداواری بہتری ناگزیر ہے۔ AI، جب مؤثر طریقے سے استعمال کیا جائے، تو پاکستانی فرموں کے لیے ایک 'فورس ملٹی پلائر' کا کام کرتا ہے، جس سے وہ بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیے بغیر سپلائی چین کو بہتر بنانے، کسٹمر سروس کو تیز کرنے اور اخراجات میں کمی لانے کے قابل ہو جاتی ہیں۔
کاروبار پر اثرات
اس کا اثر دستی اور غلطیوں کے شکار انتظامی کاموں سے خودکار ورک فلو کی طرف منتقلی میں سب سے زیادہ واضح ہے۔ کاروباروں کا کہنا ہے کہ AI کی اصل قدر بڑے ڈیٹا سیٹس کو قابلِ عمل حکمت عملی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت میں ہے۔ اس کے PSX کوریج پر براہ راست اثرات مرتب ہو رہے ہیں، کیونکہ سرمایہ کار اب فرموں کی ڈیجیٹل میچورٹی کو مستقبل کی آپریشنل لچک کے پیمانے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کلیدی اثرات کے شعبے یہ ہیں:
- انوینٹری مینجمنٹ: پیش گوئی کرنے والے ماڈلز ریٹیل اور مینوفیکچرنگ فرموں کو ضیاع کم کرنے میں مدد کر رہے ہیں۔
- مالیاتی رپورٹنگ: AI پر مبنی آڈیٹنگ ٹولز تعمیل کو تیز کر رہے ہیں اور کارپوریٹ فائلنگ میں انسانی غلطیوں کو کم کر رہے ہیں۔
- کسٹمر کا تجربہ: مقامی نیچرل لینگویج پروسیسنگ (NLP) مختلف علاقائی لسانی آبادیوں کے ساتھ زیادہ بہتر انداز میں مشغول ہونے کے قابل بنا رہی ہے۔
متاثرہ کمپنیاں اور شعبے
مالیاتی خدمات کا شعبہ، خاص طور پر تیزی سے بڑھتا ہوا فنٹیک اسپیس، اس تبدیلی میں سب سے آگے ہے۔ بینک اور ڈیجیٹل والٹس مشین لرننگ کا استعمال کریڈٹ اسکورنگ ماڈلز کو بہتر بنانے کے لیے کر رہے ہیں۔ اسی دوران، پنجاب اور سندھ میں مینوفیکچرنگ سیکٹر آلات کی صحت کی نگرانی کے لیے AI سے لیس مشینری استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس صنعتی پیداوار میں تبدیلیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے، جو ان شعبوں میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کی رائے
انڈسٹری کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں AI کا کامیاب نفاذ صرف عالمی سافٹ ویئر درآمد کرنے کا نام نہیں، بلکہ مقامی ڈیٹا سیٹس پر ماڈلز کو تربیت دینے کا نام ہے۔ 'Garbage-in, garbage-out' کا اصول یہاں خاص طور پر لاگو ہوتا ہے، جہاں غیر رسمی کاروباری طریقے اکثر بکھرے ہوئے ڈیٹا کا باعث بنتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ جو فرمیں ڈیٹا کو صاف کرنے اور منظم ریکارڈ رکھنے میں سرمایہ کاری کرتی ہیں، انہیں صرف تیار شدہ ٹولز استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ منافع (ROI) ملتا ہے۔ اس کے لیے کارپوریٹ قیادت میں ثقافتی تبدیلی کی ضرورت ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ
مستقبل کی طرف دیکھیں تو پاکستان میں AI کا سفر محتاط حد تک پرامید ہے۔ جیسے جیسے ڈیٹا پرائیویسی اور ڈیجیٹل اخلاقیات کے لیے ریگولیٹری فریم ورک تیار ہوگا، سرمایہ کاری کا ماحول مزید مستحکم ہوگا۔ جو فرمیں AI ہائپ اور عملی استعمال کے درمیان فرق کو ختم کریں گی، وہی مارکیٹ لیڈر بن کر ابھریں گی۔ وزارت آئی ٹی اور ٹیلی کام کی پالیسیوں کی مسلسل نگرانی کاروباروں کے لیے قومی ڈیجیٹل تبدیلی کے اہداف کے ساتھ ہم آہنگ رہنے کے لیے اہم ہوگی۔